بنگلورو، 9/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) بنگلورو میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی سیاسی بساط بچھ گئی ہےاوردونوں طرف سے چالیں بھی منتخب کی جارہی ہیں لیکن اس مرتبہ کانگریس پارٹی کافی پراعتماد نظر آرہی ہے جبکہ دوسری طرف بی جے پی حکومت مخالف لہر کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ بےاطمینانی کی شدید لہر سے بھی دوچار ہے۔ کانگریس پارٹی کے تعلق سے یہ واضح کردیا گیا ہے کہ وہ ریاستی موضوعات پر ہی الیکشن لڑے گی تاکہ بی جے پی حکومت کو اس کے کاموں سے متعلق گھیرا جائے اور جواب مانگا جائے ۔ ادھر بی جے پی کم از کم ۳۶؍ سیٹوں پر امیدواروں کے تئیں شدید بے اطمینانی کا سامنا کر رہی ہے۔ اس کی تصدیق پارٹی کے باوثوق ذرائع کے ساتھ ساتھ سابق وزیر اعلیٰ یدی یورپا بھی کررہے ہیں۔ انہوں نے سنیچر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ انہیں امیدواروں کے انتخاب میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اسی وجہ سے اب تک پارٹی نے فہرست جاری نہیں کی ہے۔
کانگریس پارٹی کے باوثوق ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ریاستی لیڈر شپ کی دہلی میں اعلیٰ کمان کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں یہ پیغام واضح طور پر دے دیا گیا کہ کرناٹک میں الیکشن ریاستی موضوعات پر ہی لڑا جائے گا۔ ریاستی لیڈر شپ کے مطابق کرناٹک میں بی جے پی حکومت کے دوران بدعنوانی میں بہت بڑا اضافہ ہواہے۔ اس کی وجہ سے عوام میں حکومت تبدیل کرنے کا رجحان واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ۴۰؍ فیصد کمیشن کا معاملہ بھی بی جے پی صحیح طریقے سے سنبھال نہیں سکی ہے۔ اس کا بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی ریاست میں بڑھتی فرقہ پرستی بھی اہم موضوع ہے کیوں کہ کرناٹک اور یہاں کے کچھ اہم شہر پوری طرح سے کاسموپولیٹن شہر ہیںلیکن بی جے پی کے اقتدار میں ان کی شبیہ تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے ریاست کی سرمایہ کاری کو بھی نقصان پہنچا ہے۔اس کے علاوہ مختلف گھوٹالے اور بنگلور میں انفراسٹرکچر کا پوری طرح سے منہدم ہوجانا بھی بہت بڑا موضوع بن سکتا ہے۔ اسی لئے ڈی کے شیو کمار کی قیادت میں ریاستی کانگریس کی لیڈر شپ انہی موضوعات کے آس پاس اپنا سیاسی دائو کھیلنے کا ارادہ کررہی ہے۔ ریاستی موضوعات پر الیکشن لڑنے کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ کانگریس نہیں چاہتی ہے کہ ایک مرتبہ پھر الیکشن مودی بمقابلہ راہل گاندھی ہو جائے۔ اسی لئے پارٹی سنبھل سنبھل کر اور مقامی موضوعات پر ہی بات کررہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ’’ ہماری ’پے سی ایم ‘ مہم جس کے ذریعے بومئی حکومت کی بدعنوانی بے نقاب کی گئی بہت زیادہ کامیاب رہی ہے اور ہم اسے بھی الیکشن مہم کے دوران استعمال کرنے پر غور کررہے ہیں۔
دوسری طرف بی جے پی بڑی شدت کے ساتھ کسی ایسے موضوع کی تلاش میں ہے جس کے سہارے وہ پوری انتخابی کہانی بُن سکے لیکن اب تک کانگریس نے اسے ایسا کوئی موقع نہیں دیا ہے بلکہ بی جے پی خود اندرونی بغاوتوں سے پریشان ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا نے اعتراف کیا کہ امیدواروں کے انتخاب میں انہیں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اسی لئے اب تک ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے مگر جلد ہی یہ کام کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کچھ سیٹوں پر جہاں ہم آسانی سے جیت رہے ہیں وہاں پر ۵؍ سے ۶؍ امیدوار ہیں۔ ان میں سے ۲؍ سے ۳؍ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اسی لئے اتنی تاخیر ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ کم از کم ۴۰؍ سیٹیں ایسی ہیں جہاں پر بی جے پی کو بغاوت کا سامنا ہے۔ یہاں پر ٹکٹ کے متمنی امیدواروں نے الٹی میٹم دے دیا ہے کہ اگر انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا تو وہ کانگریس میں شامل ہو جائیں گے ۔ بی جے پی کے لئے یہ امیدوار ٹیڑھی کھیر ثابت ہو رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب تک اس نے فہرست جاری نہیں کی ہے۔